کوچی ،18؍نومبر (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا)سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے جی ایس ٹی کے نفاذ پر ایک بار پھر سوال اٹھایا ہے۔ہفتہ کوانہوں نے کہاکہ نوٹ بندی کے ٹھیک بعد جی ایس ٹی کو جلدی میں نافذکرنے سے معیشت سست پڑ گئی ہے۔سابق وزیر اعظم نے یہ بھی کہا کہ انہیں فی الحال معیشت اس صورت حال سے باہر آتے ہوئے نہیں دکھائی دے رہی ہے۔کیرالہ میں کانگریس کی قیادت والے یو ڈی ایف کی جانب سے منعقد ایک جلسہ عام میں منموہن سنگھ نے مودی حکومت پر نشانہ لگایا۔انہوں نے 500-1000 روپے کے نوٹ چلن سے باہر کرنے کے فیصلے کو ’بڑی، تاریخی بھول‘قرار دیا۔سابق وزیر اعظم نے کہا کہ بی جے پی حکومت نے جلدبازی میں جی ایس ٹی نافذ کرکے لوگوں پر نیا بوجھ ڈال دیا ہے۔سابق وزیر اعظم نے اس دوران ملک کے لفٹ پارٹی کا اعلان کیا کہ وہ مرکز کی بی جے پی حکومت کی ’غلط‘پالیسیوں کے خلاف قومی سطح پر لڑنے میں کانگریس قیادت کے ساتھ تعاون کریں۔
سابق وزیر اعظم نے کانگریس قیادت والے اپوزیشن یوڈی ایف کی جانب سے منعقد جلسہ عام میں کہاکہ قومی سطح پر کیا ہم بی جے پی کی مخالفت متحدہ محاذ کے طور پر کرنے کے لئے جا رہے ہیں یا ایم سی پی دونوں جماعتوں بی جے پی اور کانگریس سے برابر فاصلے رکھنے جا رہی ہے؟سنگھ نے پارٹی سے قومی سطح پر کانگریس قیادت کو تعاون دینے اور بی جے پی کے اقتدار اور اس کی پالیسیوں کے خلاف متحد ہو کر جنگ چھیڑنے کی اپیل کی۔سابق وزیر اعظم منموہن سنگھ نے ہماچل پردیش اور گجرات میں انتخابات کی تیاریوں کے لئے محنت کرنے کے لئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی کی تعریف کی ہے۔انہوں نے امید ظاہر کی کہ پارٹی ان انتخابات میں فاتح ہوگی۔سنگھ نے کہا کہ سیاست ایک ایسا پیشہ ہے جس میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا اور کوئی شخص اس میں صرف کوشش ہی کر سکتا ہے۔منموہن سنگھ نے ہما چل پردیش اور بی جے پی حکومت گجرات میں کانگریس کی جیت کے امکانات پرکہاکہ میرا خیال ہے کہ ہمارے نائب صدر راہل گاندھی سخت محنت کر رہے ہیں اور مجھے امید ہے کہ ان کی کوششوں کو فتح کا تاج ملے گا۔سیاست ایک ایسا پیشہ ہے جس کے بارے میں کوئی اندازہ نہیں لگایا جا سکتا۔کسی کو کچھ پتہ نہیں ہوتا۔